اکثر بچے بچپن سے نیک نہیں ہوتے

امام مالک کی رنگت بہت زیادہ گوری تھی، آنکھیں نیلی اور بال سنہری… انکو کبوتروں سے کھیلنے کا شوق تھا(اس وقت کا ایکس باکس)، انکی خوائش گلوکار بننے کی تھی اور وہ اسی کوشش میں لگے رہتے تھے، ان کو تصور میں لانے کے لئے صرف یہ سوچے کہ وہ کان میں بالی پہنتے تھے، جی جی مدینہ میں جہاں صحابہ کے شاگرد زندہ تھے، جہاں علما کی بھرمار تھی،

وہاں امام مالک کانوں میں بالی پہن کر گانا گانا سیکھ رہے تھے. ایک دن والد نے ایک سوال پوچھا جس کا جواب امام ما=ک کے بھائی نے تو صحیح دیا مگر امام مالک نے غلط، والد صاحب نے تانا دیا کہ تمھارے پاس پڑھنے کے لئے وقت کہاں ہوتا ہے ہر وقت کبوتروں میں لگے رہتے ہو… امام مالک کو غصہ آیا اور اس نیت سے علم حاصل کرنے کاکرنے کا سوچا کہ والد کو غلط ثابت کرے.سبحان الله… ایک نوجوان جو دین سے دور تھا وہ دین سیکھنے آیا بھی تو اسلئے کے والد کو غلط ثابت کرے، مگر پھر زندگی نے ایسی کروٹ لی کہ لوگوں کے خواب میں نبی(ص) آتے اور کہتے میں نے مالک کو صراط مستقیم دکھا دی ہے، پھر وہ دن بھی آئےکہ امام ابو حنیفہ کے شاگرد امام مالک سے علم سیکھنے آتے، پھر وہ دن بھی آئے کہ امام شافی امام مالک کے علم کی تعریف کرتے تھے، پھر وہ دن بھی آئے کہ ان کو “امام دارلہجرہ” کہا جاتا تھا. آج ہمارے یہاں سمجھا جاتا ہے کہ علم صرف انکی میراس ہے جو بچپن سے مدرسے کا طالب علم ہے، یعنی توبہ کر کے علم حاصل کرنے کے دروازے بند ؟ ہمارے یہاں جب کوئی زندگی کے کسی موڑ پہ تبدیل ہوجاے تو اسکو ماضی کے تانے ملتے ہیں، کہا جاتا ہے کل تک تم بھی تو یہ کرتے تھے. کاش ہم صحابہ کی زندگی ہی پڑھ لیتے تو اندازہ ہوتا کہ اکثر بچپن سے نیک نہ تھے

انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مین
loading...
اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
خصوصی فیچرز

تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس

صحت