فوج اپنے آئینی کردار میں رہے۔۔۔دھرنا ختم کروانے کیلئے ایک فوجی کیسے ثالث بن سکتا ہے

فوج اپنے آئینی کردار میں رہے۔۔۔دھرنا ختم کروانے کیلئے ایک فوجی کیسے ثالث بن سکتا ہے
اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیض آباد دھرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ،آئی جی سیکرٹری داخلہ کی عدم موجودگی پر عدالت برہم
آئی جی سیکرٹری داخلہ کی عدم موجودگی پر عدالت برہم، عدالت نے یہ تو نہیں کہاتھا کہ معاہدہ کریں۔جن فوجیوں کو ریاست کو شوق پہے وہ فوج چھوڑ کر سیاست میں جائیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے سخت ریمارکس

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیض آباد دھرنے کے خلاف پرویز ظہور کی درخواست پر سماعت ہوئی ۔ تفصیلات کے مطابق سماعت میں وزیر داخلہ احسن اقبال کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے استفسار کیا تو اٹارنی جنرل نے بتایا کہ احسن اقبال رات بھر کے جاگے ہوئے ہیں، وہ رات بھر دھرنے کے مظاہرین سے مذاکرات کرتے رہے ہیں ابھی کچھ دیرمیں عدالت کے رو برو پیش ہوں گے۔
عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو مصیبت میں ڈال کر خود سو رہے ہیں۔ عدالت نے 15 منٹ میں وزیر داخلہ کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ وقفے کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا۔ عدالت نے آئی جی سیکرٹری داخلہ کی عدم موجودگی پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے یہ تو نہیں کہاکہ معاہدہ کریں۔
عدالت نے صرف یہ حکم دیا تھا کہ فیض آباد انٹرچینج کو خالی کروایا جائے۔ چیف کمشنر نے عدالت میں بیان دیا کہ کچھ دیر میں فیض آباد انٹرچینج خالی ہو جائے گا۔ جسٹس شوکت عزیز نے کہا کہ معاہدہ کیا ہوا پڑھ کر سنائیں۔ چیف کمشنر نے عدالت میں معاہدہ پڑھ کر سنایا جس پر جسٹس شوکت صدیقی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے میں میجر جنرل فیض حمید کون ہے؟ ایک فوجی معاہدے میں ثالث کیسے بن سکتا ہے؟ ایک فوجی کا آئین کے تحت کسی کا ثالث بننا کیسا ہے؟ فوج کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے آئینی کردار میں رہے ۔
انہوں نے کہا کہ جن فوجیوں کو ریاست کو شوق ہے وہ فوج چھوڑ کر سیاست میں جائیں۔ ریاست اور آئین کے ساتھ کھیلنے کی حد ہو گئی ہے۔ ریاست نے تو کہا تھا کہ ہم آپریشن نہیں کرنا چاہتے ، چیف کمشنر نے عدالت کو معاہدے کا متن پڑھ کرسنایا۔ عدالت حکومت اور مظاہرین کے مابین ہوئے معاہدے پر برہم ہوئی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ریاست کے ساتھ کب تک ایسا چلتا رہے گا ۔
عدالت نے حکم دیا کہ فیض آباد انٹرچینج خالی کروانے کے انتظامات کی رپورٹ پیش کی جائے۔ آپریشن ناکام کیوں ہوا اس کی بھی رپورٹ پیش کی جائے۔ قوم کے ساتھ کب تک تماشا لگا رہے گا۔ تحریری طور پر بتایا جائے کہ کس نے انتظامیہ کو رسوا کیا ، کس نے پولیس کی پیٹھ پر چھرا گھونپا ، دہشتگردی کی دفعات والے مقدمات ایک دم کیسے ختم ہوں گے؟ مظاہرین کے پاس آنسو گیس ، گن ، شیل اورماسک کہاں سے آئے؟ عدالت نے آئی بی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی آڈیو سے متعلق بھی رپورٹ طلب کی اور کہا کہ عدالت نے دھرنا ختم کروانے کا حکم آئین کے مطابق دیا ۔
ہمیں معاملے کی حساسیت کا علم ہے ۔ جسٹس شوکت عزیز نے کہا کہ معاہدے میں میجر جنرل فیض حمید کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ میجر جنرل فیض حمید معاہدے میں ثالث کیسے بن سکتے ہیں ؟ ایک فوجی کا آئین کے تحت کسی کا ثالث بننا کیسا ہے؟ فوج کو چاہئیے کہ اپنے آئینی کردار میں رہے ، جن فوجیوں کو ریاست کو شوق ہے وہ فوج چھوڑ کر سیاست میں جائیں ، ریاست اور آئین کے ساتھ کھیلنے کی حد ہو گئی ہے ۔
معاہدے میں عدلیہ کو گالیاں نکالنے پر معافی مانگنے کی شق کیوں موجود نہیں ہے؟ عدالت نے کہا کہ انوشے رحمان کو بچانے کے لیے زاہد حامد کی بلی چڑھائی جا رہی ہے ۔ انہوں نے وزیر داخلہ احسن اقبال سے کہا کہ آپریشن رد الفساد کہاں گیا؟یہاں کسی کو فساد نظر نہیں آیا ؟ انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت آپ نے فوج کیوں نہیں بلوائی؟ احسن اقبال نے کہا کہ ہلم نے فوج بلوائی تھی لیکن انہوں نے استفسار کیا اور جواب دے دیا ہے۔
عدالت نے کہا کہ فوج آپ کی ہدایات پر عمل کرنے کی پابند ہے۔ ادارے ہی ریاست کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ آپ نے انتظامیہ او ر پولیس کو ذلیل کروا دیا ہے۔ جس پر احسن اقبال نے کہا کہ ہم نے کسی کی تذلیل نہیں کروائی ۔ جسٹس شوکت عزیز نے کہا کہ یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ ہر مرض کی دوا فوج ہے اور آپ نے اس تاثر کو تقویت دی۔ آپ نے ثابت کر دیا کہ دھرنے کے پیچھے وہی تھے ۔
جس پر احسن اقبال نے کہا کہ میرے قتل پر دس لاکھ روپے کا انعام تھا۔ جسٹس شوکت عزیز نے کہا کہ ان باتوں کے بعد میری زندگی کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے ۔ ہو سکتا ہے میں مار دیا جاؤں یا لا پتہ کر دیا جاؤں، احسن اقبال نے کہا کہ ملک بڑے سکیورٹی چیلنجز کی طرف جا رہا تھا ، ملک ایسی صورتحال پر آگیا کہ خانہ جنگی ہونے جا رہی تھی۔ عدالت نے بیرسٹر ظفر اللہ کی سربراہی میں نئی کمیٹی تشکیل دے کر آئندہ دس روز میں جبکہ حکومت سے آئندہ تین روز میں رپورٹ طلب کر تے ہوئے کیس کی مزید سماعت4دسمبر تک ملتوی کر دی۔

انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مین
loading...
اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
خصوصی فیچرز

تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس

صحت